تیسری صدی عیسوی میں جب بدھ ازم پوری دنیا میں
پھیل رہاتھا تو پاکستان کے کئی علاقے بھی موریاں کے بادشاہ اشوکا کی زیرسلطنت
آگئے، اسی دوران بدھ ازم نے موجودہ پاکستان میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کرلیں
9 ویں صدی عیسوی میں سکردو کا علاقہ منٹھل بھی
بدھ ازم کے زیرسایہ آگیا،منٹھل گائوں سکردو سٹی سے صرف 40 منٹ کی مسافت پر
تقریباً 19 کلومیٹر دور ہے۔
سکردو شہر سے منٹھل گائوں تک میرا ایک تفصیلی
ولاگ میں اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کرچکا ہوں آپ ویڈیو دیکھ کر شہر سے کسی سے
پوچھے بغیر ہی سیدھابدھاراک پہنچ جائیں گے۔
میرے چینل کا نام میں نیچے لکھ دیتا ہوں تاکہ
آپ یوٹیوب پر سرچ کرکے میرا چینل سبسکرائب بھی کرسکیں
Waqar Travel Addict
اس بلاگ میں میں آپ کو بدھا راک کی پوری ہسٹری
بتانے والا ہوں۔ اس دیوقامت پتھر میں نظرآنے والا شخص سدھارتا مہاتما گوتما ہے
اور اس کے سامنے بیٹھے یہ لوگ سانگا ہیں۔ جن کی وجہ سے اس علاقے میں بدھ ازم پھیلا
اور بعد ازاں پورے خطے میں بدھ ازم کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔
سدھارتا مہاتما توگما کا والد اس پوری سٹیٹ کا
بادشاہ تھا۔
گوتما کی پیدائش سے قبل اس کی والدہ نے کسی
نجومی سے بچے کی قسمت کے بارے میں پوچھا تو اس نے علم نجوم کا حساب لگا کر بتایا
کہ بچہ بڑا ہوکر یو تو جنگجو بنے گا یا پھر راہب بن جائے گا۔
بادشاہ کو راہب بننے کی بات پسند نہ آئی اس لئے
اس نے بچے کی پیدائش سے پہلے ہی اسے مذہبی دعوت و تبلیغ سے دور رکھنے کے لئے 4
موسموں کے نام پر 4 عالی شان محل تیار کروا کر دیئے تاکہ شہزادہ عیش و عشرت کی
زندگی گزارے۔ گوتما نے سارا لڑکپن ان 4 محلوں میں گزار دیا۔ جوان ہوا تو کسی نوکر
نے جنازے میں شرکت کیلئے چھٹی کی درخواست کی۔ گوتما نے باہر کی دنیا نہیں دیکھی
تھی، جب پتہ چلا کہ انسان مرتے بھی ہیں تو والد سے کئی روز تک اجازت طلبی کے بعد آخر
کار اپنے محل سے باہر آہی گیا۔ باہر نکلتے ہی قریبی جنگل میں اس کی ملاقات 6
راہبوں سے ہوئی اور یوں وہ عیش و عشرت کی زندگی سے نکل کر ایک راہب بن گیا۔
اس پتھر پر یہ پوری کہانی کندہ ہے۔ راہبوں کے
کئی گروہ دنیا بھر سے ہرسال یہاں عبادت کیلئے آتے ہیں۔پتھر
پر جگہ جگہ عبارات کندہ ہیں جن میں مہاتما گوتما کے راہب بننے کی پوری داستان درج
ہے اور اسی وجہ سے اسے بدھا راک کہا جاتا ہے
0 Comments