Chaqchan Mosque Khaplu Valley Gilgit Baltistan Pakistan

Chaqchan Mosque Khaplu Valley Gilgit Baltistan Pakistan

آج کا بلاگ شمال علاقہ جات کے سب سے مشہور مقام سے متعلق ہے

آج آپ میرے بلاگ میں پڑھیں گے گلگت بلتستان کی سب سے پہلی مسجد کے بارے میں، 783 ہجری، 1370 عیسوی میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد ایشیا کی سب سے پرانی مساجد میں سے ایک ہے۔

چقچن کے نام سے جانے والی اس قدیم مسجد کی دو خصوصیات ہیں۔ پہلی یہ کہ یہ خانہ خدا کسی زمانے میں بدھ مت کے پیروکاروں ک عبادت گاہ ہواکرتا تھا، اور دوسری خصوصیت یا معجزہ یہ ہے کہ اس مسجد میں ہونے والے مقدمات یا جرگوں کا فیصلہ دنوں میں ہوجاتا ہے یعنی اگرکوئی شخص کسی پر جھوٹا مقدمہ اس مسجد میں لے آئے تو وہ چند ہی دنوں میں عذاب الٰہی میں گرفتار ہوجاتا ہے اور یہ سلسلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے

چقچن مسجد پر تفصیلی ولاگ میں نے اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کردیا ہے آپ میرا نام سرچ کرکے پورا ولاگ دیکھ سکتے ہیں ، چینل کا نام میں تحریر کردیتا ہوں

Waqar Travel Addict

یہ مسجد سکردو سے 115 کلومیٹر دو خپلو میں واقع ہے۔ چق چن کا مطلب ہے لکڑی کے ٹکڑوں سے بنی مسجد۔ یہ مسجد 800 سال قبل ایران سے آئے میر سید علی ہمدان نے تعمیر کروائی تھی۔ بعض لوگوں کے مطابق یہ مسجد صوفی بزرگ سید نوربخش نے تعمیر کروائی تھی لیکن تاریخ کی کتابیں اس حوالے سے خاموش ہیں۔

اس مسجد میں مقامی آبادی بڑی تعداد میں بدھ مت چھوڑ کر مشرف بہ اسلام ہوئی اور یہیں پر کلمہ پڑھ کر تاریک اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف آگئی۔ یہاں روزانہ 6 وقت ازان دی جاتی ہے اور تہجد کی نماز بھی اس مسجد میں باجماعت ادا کی جاتی ہے

مقامی لوگوں میں سے چند کا یہ ماننا ہے کہ چقچن نہیں بلکہ شگر کی امبورک گلگت بلتستان کی پہلی مسجد ہے ، اسی بھی امیرکبیرمیرسید علی ہمدان نے تعمیر کروایا تھا اور اس مسجد میں سید علی ہمدان کے ہاتھوں سے لکھی تحریر بھی موجود ہے۔ امبورک کا مطلب ہے روشن کرنے والی، کیونکہ امبورک شگر کی زمین پر پہلی بنیاد تھی۔ تقریباً 660 سال گزرنے کے باوجودامبورک مسجد اپنی اصل حالت میں موجودہ ہے لیکن زیادہ تر لوگوں کا یہی ماننا ہے کہ چقچن ہی گلگت میں بننے والی پہلی مسجد ہے۔ دوستوں کا اتفاق نہ آنے کی وجہ سے میں شگر صحیح طرح سے ایکسپلور نہیں کرسکا اور صرف سرفرنگا کا ریگستان ہی دیکھ پایا ۔ زندگی رہی تو انشااللہ امبورک مسجد دیکھنے دوبارہ شگر جائوں گا۔

چقچن مسجد کی تعمیر میں صرف لکڑی ،پتھر اور گارے کا استعمال کیا گیا ہے

یہ تبت  اور فارس طرزتعمیر کا بہترین شاہکار اور کشمیر و لداخ کے فن تعمیر کا بہترین امتزاج ہے

مٹی کو رنگ دے کر لکڑی کے نقش و نگار میں انتہائی مہارت کے ساتھ چنا گیا ہے ، مٹی اور گارے کے استعمال کی وجہ سے شدید سردی میں بھی یہ مسجد نمازیوں کو سردی کا احساس نہیں ہونے دیتی

Post a Comment

0 Comments