Khunjerab Border and Khunjerab National Park Pakistan in June

 

Khunjerab Border and Khunjerab National Park Pakistan in June 

Khunjerab Border and Khunjerab National Park Pakistan in June


جون کا بے رحم مہینہ، ہاڑکی ستم ظریفیاں ،واپڈا کی ایذارسانیاں اور گوروں کو بھی حبشی بنا دینے والا آگ برساتا سورج ، پشاور  میں تھر کے ریگستانوں کی جھلک دکھائی دے رہی تھی۔ 45 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی نے جب امتحان پہ امتحان لینا شروع کردیئے اور بے چینی کی کیفیت بڑھنے لگی تو بھلا ہو میرے دوستوں کا جن کے روشن دماغوں کی گھنٹی بجی ، گرمی میں کسی ٹھنڈے علاقے کی تلاش کی تجویز لے آئے اور میرے سمیت تمام دوستوں نے بغیر کچھ سوچے سمجھے  پہلی ہی نشست میں خنجراب ٹاپ کی جانب سفر پر آمادگی ظاہر کرلی۔ عید الاضحیٰ پر سفر شروع کرنے کا فیصلہ ہوا لیکن مون سون کی بارشوں ، لاک ڈائون کے خدشے نے عید سے ایک ماہ قبل ہی جانے پر اتفاق ہوا اور 27 جون کو روانگی کا مصمم ارادہ کرلیا۔ سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز میں دیکھا تھا کہ خنجراب ٹاپ پر جون اور جولائی میں بھی سیاح برفباری انجوائے کررہے ہوتے ہیں، یہی امید ہم بھی دل میں لئے سفر پر نکل پڑے اور الحمدللہ بارڈر پر برفباری سے خوب لطف اندوز بھی ہوئے۔ہنزہ سے پاک چین بارڈر تک شاہراہ قراقرم کارپٹ روڈ ہے، Khunjerab Border and Khunjerab National Park Pakistan in Juneاگر آپ پاکستانی ہیں اور سیاحت کے شوقین بھی ہیں تو زندگی میں ایک بار خنجراب بارڈر ضرور جائیں کیونکہ یہاں سالانہ سینکڑوں غیرملکی سیاح آتے ہیں تو آپ کو بھی یہ جگہ لازمی دیکھنی چاہئے۔ ایڈونچر کے شوقین اور جنگلی حیات سے محبت رکھنے والے افراد کیلئے یہ جگہ بہترین انتخاب ہے ، بلند و بالا خوبصورت پہاڑ، شورمچاتا دریا اور سحر انگیز مناظر آپ کے ذہن پر نقش ہوکر رہ جائیں گے۔ پہاڑی گائے و بکرے یعنی یاک اور آئی بیکس کے علاوہ میرمٹ آپ کو یہاں کثرت سے دیکھنے کو ملیں گے اور اگر قسمت اچھی اور نظر تیز ہوئی تو برفانی چینے اور بھیڑیئے بھی دور سے جھلک دکھا دینگے۔ ہم تلاش بسیار کے باوجود بھیڑیئے اور برفانی چیتے دیکھنے سے محروم رہے البتہ آئی بیکس یاک اور میرمٹس کے ساتھ کھل کر تصاویر بنوائیں ،ہنزہ سے تقریبا 4 گھنٹے کی مسافت پر ہم بالاخر چین کے بارڈر تک پہنچ گئے، یہاں آنے کیلئے گرم کپڑے اور جیکٹس وغیرہ لازمی ساتھ رکھیں کیونکہ یہاں درجہ حرارت زیادہ تر منفی میں ہی رہتا ہے۔ بارڈر پہنچ کر صرف تصاویر اور ویڈیوز بنانے پر ہی اکتفا کریں تو یہ آپ کیلئے بہتر ہوگا، دوڑنا، بھاگنا اور ہلہ گلہ کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ یہاں ہوا میں آکسیجن کی مقدار انتہائی کم ہوتی ہے اور بعض لوگوں کو سانس اکھڑنے، سرچکرانے اور دل گھبرانے کی کیفیت ہوسکتی ہے جو ہم نے خود وہاں چند سیاحوں کیساتھ ہوتے دیکھا ۔ یہاں دنیا کے سب سے اونچے اے ٹی ایم سے پیسے نکالی گھومیں پھریں، حسین لمحات کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کریں اور اگر ہماری طرح کافی کے شوقین ہیں تو کافی بنائیں اور موسم ، نظاروں اور کافی کے مزے لوٹیں

Post a Comment

0 Comments