Sad Story of Porter Muhammad Hassan on K2 Base Camp

 Sad Story of Porter Muhammad Hassan on K2 Base Camp

Sad Story of Porter Muhammad Hassan on K2 Base Camp

پاکستانی پورٹر محمد حسین کی زندگی کے آخری چند گھنٹے کیسے کے ٹو پر ایک رسی سے لٹکتے گزرے۔ کیسے تین گھنٹوں تک وہ تڑپتا رہا اور مہذب دنیا کے بڑے بڑے کوہ پیماؤں نے اس کی لاش پر قدم رکھ کر کے ٹو کو سر کرنے کا کارنامہ سر انجام دیا۔

محمد حسن لیلا پیک کمپنی کا ملازم تھا جو پاکستان میں ایڈونچر ٹورازم کی سب سے بڑی کمپنی مانی جاتی ہے۔ الیکس ابراموف کے سیون سمٹ کلب نے اسے سمٹ پش کے دوران رسی فکس کرنے والوں کی مدد کے لیے ہائیر کیا تھا۔ حسن چونکہ بہت تجربہ کار کوہ پیما نہیں تھا اس لئے اسے ایسے مشن کیلئے منتخب کرنا ایک رسک تھا اس کی نا تجربہ کاری ساتھ ورکرز نے نوٹ کی اس کے ساتھ ساتھ اس کے پاس کے ٹو سر کرنے کیلئے مناسب ایکویپمنٹ بھی موجود نا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق اس کی کمپنی لیلا پیک نے اسے جو سوٹ، کلایئمنگ گئیر اور ماسک مہیا کر رکھا تھا وہ بوسیدہ اور اس مشن کیلئے ناکافی تھا جس وجہ سے اس کے ساتھیوں نے کئی مرتبہ اسے واپس جانے کو کہا مگر بچارے مزدور کو اپنے پیسے گنوانا اپنی جان گنوانے سے زیادہ قیمتی لگ رہا تھا اور اس نے اپنا مشن جاری رکھا۔

27 جولائی کی صبح 2 بجے درجنوں کوہ پیماؤں کی ٹیمیں کے ٹو سر کرنے نکلیں تو محمد حسین اپنی جاب کے مطابق رسی فکس کرنے والوں کی مدد کرنے آگے موجود تھا۔ اس دوران چار مرتبہ چھوٹے برفانی طوفان(Avalanche)  آئے جو ذیادہ خطرناک ثابت نہیں ہوئے اور تمام ٹیموں نے اپنا مشن جاری رکھا۔ رسی فکس کرنے کے دوران حسن پھسلا اور اس کا O2 ماسک ٹوٹ گیا جو اس کے ساتھیوں کے مطابق غیر معیاری تھا جسے کچھ کوہ پیماؤں بشمول k2 expedition کے لکپا شیرپا اور کیمرہ میان فلپ نے بھی نوٹ کیا۔
آگے چلنے سے پہلے یہ بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ اگر واقعی ایسی بات ہے تو حسن کی موت کی مکمل ذمہ داری لیلا پیک کمپنی پر عائد ہوتی ہے جس نے ایک نوجوان کو ناکافی سہولیات کے ساتھ موت کے منہ میں دھکیل دیا اور ایک غریب آدمی اپنی روزی کی خاطر اپنی جان پر کھیل گیا۔
اس حادثے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کے حسن گرا ،اسے ایک مرتبہ اُٹھانے کی کوشش کی گئی اس میں جان باقی تھی مگر ہمت نا تھی جس پر اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا اور اس دن درجنوں غیر ملکی کوہ پیماؤں نے کے ٹو سر کیا۔ حسن تین گھنٹے زندہ اس رسی کے ساتھ لٹکتا رہا اس کے بعد نجانے کتنے وقت تک اس کے لاش اس رسی کے ساتھ لٹکتی رہی اور تمام ساتھ اور باقی ٹیمیں اس کی لاش پر سے گزر کر کے ٹو پر اپنے نام کا جھنڈا لہراتے رہے۔

27 جولائی کو جتنے سمٹ ہوئے اس میں حسن کا نام بھی شامل کرنا چاہیے کیونکہ ذیادہ تر اس کی لاش پر قدم رکھتے ہوئے چوٹی کو سر کرنے تک پہنچے اور حسن کی فیملی کو اس کمپنی سے اس کا جائز حق دلوایا جائے اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی کمپنیوں کے پورٹرز کا مکمل تحفظ اور سیفٹی سٹینڈرڈز کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیئے خود ہزاروں ڈالر لے کر ہمارے بھائیوں کو چند ہزار کر کس حالت میں موت کی وادیوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہیکہ کے ٹو سمٹ کیلئے اب باہر کی کمپنیاں پورٹرز بھی باہر سے ہی بھجوانے لگی ہیں اور پاکستانی پورٹرز کا روزگار ختم ہوتا جا رہا ہے۔

 

Post a Comment

0 Comments