Skardu Complete Tour Guide

Skardu Complete Tour Guide 


 سکردو گلگت بلتستان کے ایک شہر کا نام ہے لیکن مقامی سیاحتی انڈسٹری میں سکردو سے مراد بلتستان کے چاراضلاع اور ضلع استور کو شامل کیا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان جانے والے سیاح یا تو گلگت کا رخ کرتے ہیں یا سکردو کا۔ اسی لئے گلگت بلتستان ٹور کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے 
Skardu Complete Tour Guide
: 1: سکردو ٹور 2: گلگت ٹور گلگت ٹور جگلوٹ سے شروع ہو کر خنجراب ٹاپ پر ختم ہو جاتا ہے جبکہ سکردو ٹور جگلوٹ سے شروع ہو کر ایک طرف کے ٹو دوسری طرف سیاچن اور تیسری طرف دیوسائی سے ہوتا ہوا منی مرگ پر ختم ہو جاتا ہے۔ اگر جہاز کے ذریعے سکردو کا سفر کریں تو سکردو شہر سے تمام سیاحتی مقامات تک جانے کے لیئے ہر قسم کی گاڑیاں مل جاتی ییں۔ بائی روڈ سکردو کا سفر شاہراہ بابوسر اور قراقرم ہائی وے کے بعد جگلوٹ سے شروع ہوتا ہے۔ جگلوٹ سے سکردو تک بہترین سڑک بن گئی ہے نئی شاہراہ کا نام جگلوٹ سکردو روڈ سے بدل کر شاہراہ بلتستان رکھ دیا گیا ہے ہراموش شنگوس کے بعد ڈامبوداس بازار روندو سے طورمک بلامک کیلیے روڈ لے سکتے ہیں۔ ڈمبوداس سے آگے بشو کے مقام پر رائیڈ سائیڈ سے مقامی گاڑیوں میں بشو میڈو کیلیے گاڑی مل سکتی ھے جو آپ سے 10 ہزار روپے چارج کرتی ہے ۔ بشو سے آگے شہید پل کے بعد دس منٹ کی ڈرائیو پر جے ایس آر چوک سے رائٹ سائیڈ پر کچورا ویلی ہے ۔سیدھا چالیس منٹ ڈرائیو پر سکردو سٹی ہے اور یہاں سے استور، گانچھے(وادی خپلو)، کھرمنگ اور شگر جانے کیلے بھی سکردو سے روٹ لے سکتے ہیں۔ سکردو ٹور میں درج ذیل سیاحتی مقامات شامل ہیں۔ 1: ضلع سکردو ضلع سکردو روندو وادی سے شروع ہوتا ہے اور سرمک کے مقام پر ختم ہوجاتا ہے۔ سکردو شہر گلگت بلتستان کا سب سے بڑا شہر ہے ۔ اس شہر میں گلگت بلتستان کے ہر ضلع سے بغرض روزگار لوگ آباد ہیں۔ اس شہر میں شیعہ ، نوربخشی ،سنی، اسماعلیلی، اہل حدیث غرض ہر فرقے کے لوگ پر امن زندگی بسر کرتے ہیں۔ سکردو اس پورے علاقے کا تجارتی مرکز بھی ہے۔سکردو میں گلگت بلتستان کا واحد انٹرنیشنل ائیرپورٹ بھی موجود ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن روزانہ پروازیں اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے چلاتی ہے ۔ پچھلے سال سے سیالکوٹ فیصل آباد اور ملتان سے بھی پروازوں کا آغآز ہوچکا ہے۔ ڈسٹرکٹ سکردو کے سیاحتی مقامات دیوساٸی نیشنل پارک کھرپوچو فورٹ_(تاریخی قلعہ) شنگریلا ریزارٹ ژھوق ویلی ۔۔ستقچن ویلی۔شغرتھنگ ویلی کچورا جھیل اپر لیک۔۔غلچو چشمہ پڑانگ کچورا سکم ژھو گرین لیک لور کچورا سدپارہ ڈیم چنداہ ویلی ستک ویلی روندو بلامک روندو۔طورمک روندو وادی بشو سلطان آباد بشو ویلی ننگ ژوھوق آرگینک ویلیج کتپناہ لیک اینڈ کولڈ ڈیزرٹ بدھا راک منٹھل سدپارہ #میسور راک حسین آباد #ڈائناسور راک چنداہ 2: ضلع گانچھے (وادی خپلو) ضلع گانچھے کریس سے شروع ہوتا ہے اور سیاچن گلیشئر پر ختم ہوتا ہے ۔ ضلع گانچھے کو وادی خپلو بھی کہا جاتا ہے ۔ ضلع گانچھے بلند ترین پہاڑوں اور گلیشیئرز کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ دنیا کی بلند ترین مہاز جنگ سیاچن اسی ضلع میں واقع ہے اس کے علاوہ قراقرم کے بلند ترین پہاڑوں جیسے کے ٹو، گشہ بروم ، براڈپیک۔ اور مشہ بروم سے کوہ پیما واپسی پر اسی ضلع کی وادی ہوشے کا روٹ استعمال کرتے ہیں۔ یہ ڈسٹرکٹ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس ڈسٹرکٹ کی چند تاریخی اور سیاحتی مقامات درجہ ذیل ہے_ #خپلو فورٹ_ #چقچن مسجد (7 سو سال پرانی مسجد) #تھوقسی کھر #ہلدی کونس ویو پوائنٹ #وادی ہوشے ، کے سکس، کے سیون، مشہ بروم جیسے قراقرم کے اونچے پہاڑوں کی وادی #سلنگ ریزورٹ # وادی کندوس گرم چشمہ  ,
گیاری سیاچن وادی سلترو #وادی تھلے، تھلے لا # ننگما وادی کاندے #کھرفق جھیل #خانقاہ معلٰی خپلو (ایشیا کی سب سے بڑی خانقاہ) # کے ٹو ویو پوائنٹ مچلو بروق 3_ضلع شگر شگر ایک ذرخیز وادی ہے یہ وادی تاریخی مقامات اور بلند ترین پہاڑوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی k2 بھی اس ڈسٹرکٹ میں واقع ہے اور دنیا میں 8000 اونچاٸی سے اوپر والی 5 پہاڑ بھی اس خطہ میں موجود ہیں_یہ ڈسٹرکٹ سکردو سے 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے شگر کے سیاحتی مقامات #شگر فورٹ #بلائنڈ لیک # دنیا کی بلند ترین اور سرد ریگستان سرفہ رنگا کولڈ ڈیزرٹ #کے ٹو پہاڑ_k2 #: ہشوپی باغ #خانقاہ معلیٰ 600 سال پرانی مسجد ہیں_ # وادی ارندو # کنکورڈیا #گلاب پور رنگاہ #ژھوقگو آبشار #گرم چشمہ چھوتوڑن اور بیسل # وسط قراقرم کے بلند ترین پہاڑ گشہ بروم، براڈ پیک، ٹرنگو ٹاور وغیرہ 4: ضلع کھرمنک آبشاروں اور صاف و شفاف ندی نالوں کی سرزمین۔ سیاحتی مقامات # منٹھوکھا واٹر فال # خموش آبشار # وادی شیلا # غندوس لیک (دو جھیل ھے ایک اپر ایک لور) # کارگل بارڈر وادی گلتری جو کہ کھرمنگ میں آتا ھے سکردو سے سات آٹھ گھنٹے کی مسافت پر دیوسائی ٹاپ سے تھوڑا آگے سے لفٹ سائیڈ کی طرف روڈ جاتی ھے # بڑا داس # فرانشاٹ # بنیال # تھانوٹ # شخما # برباٹ # حسینی ٹاپ # شنگو شگر ۔ مٹیال۔تھلی۔کرابوش۔ # ڈمبو بھاو 5: استور ضلع استور انتطامی طور پر دیامر ڈویژن میں واقع ہے لیکن استور تک رسائی سکردو سے ہوتا ہے خصوصا جو سیاح بذریعہ جہاز سکردو آتے ہیں ان کے لئیے استور تک رسائی سکردو دیوسائی سے ہوتا ہے ۔استور سے آنے والے سیاح بزریعہ چلم دیوسائی تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں وادی استور کے سیاحتی مقامات درج ذیل ہیں۔ # روپال فیس ننگا پربت # راما میڈوز # ترشنگ # چلم۔برزل ٹاپ۔منی مرگ # دومیل جھیل # راٹو # شونٹر #درلے جھیل اس کے علاوہ بے شمار سیاحتی مقامات موجود ہیں جہاں تک عام سیاحوں کی رسائی ممکن نہیں ہے۔شاپنگ کیلیے بنظیر چوک تا علمدار چوک شیر علی چوک تا آغا ھادی چوک اور کالج روڈ تا جامع مسجد روڈ مشہور ھے ہنڈی کرافٹ اور ڈرائی فروٹس کیلیے یاد گار چوک تا ایم پی چوک بھٹو بازار وغیرہ ھوٹل گیسٹ ھاوسزز ایک ہزار تا بیس ہزار باقی سیاح اپنے بجٹ کے مطابق مینج کرسکتے ہیں ریسٹورنٹ وغیرہ بھی انہی بازاروں میں ملیں گے۔۔۔

Post a Comment

0 Comments